Turkic-Mongol | Turc-o-Mongol | Turk & Mongol | Mongol | Mughal | Turk & Mongol Heros | Mongol (Mughal) History Mongol Empire | Timurid Empire | Mughal Empire | Selcuck Empire | Ottoman Empire

Tuesday, 19 January 2021

Sardar Shamas Khan Malddyal Shaheed (part 1)


سردار شمس خان ملدیال شہید 

 تحریرنویس: شاہد عالم خان
تحقیق وترتیب: سردار عبدالھادی منگول

 1819

میں پونچھ کے آئینی حکمران وزیر روح اللہ کے فوت ہو جانے کے بعد پونچھ کی تلوار ٹوٹ چکی تھی ۔گو کہ پونچھ پر 1823ءتک روح اللہ کے پوتے میرباز کی حکومت رہی لیکن اصل میں پونچھی حکومت کے دم خم اور اس کی اصل طاقت روح اللہ کے ساتھ ختم ھو چکی تھی اور علاقے بھر میں اندرونی افراتفری اور بد نظمی کے باعث پونچھ میں انتشار پیدا ھو چکا تھا اور مرکزی حکومت کا خاتمہ ھو گیا تھا ۔۔1823 میں میر باز کی حکومت ختم کرکہ اسے گرفتار کر لیا گیا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاھور دربار کی طرف سے مشیر دھنپت رائے کو اس علاقے کا گورنر مقرر کیا  حالانکہ یہاں میر باز کی حکومت کے خاتمے کے بعد دھنپت رائے اور حکمان سنگھ چمنی چلاتے رھے

لیکن وہ اس علاقے پر اپنا تسلط قاہم نہ رکھ سکے یہاں کے لوگ ہمیشہ بیرونی تسلط کے خلاف رہے اسی طرح کشمیر میں جب مسلمان سلاطین کی حکومت تھی تو پونچھ کے سرکش عوام نے ہمیشہ علم بغاوت بلند کیے رکھا اور ہمیشہ اپنی الگ پہچان اور علاقے کی الگ حثیت کے جدوجہد کرتے رئے 

جب یہ علاقہ 1823 میں رنجیت سنگھ کی حکومت پنجاب کا حصہ بنا اور   یہاں کے سرکش عوام نے سر اٹھانا شروع کر دیا نتیجہ یہ ھوا کہ دھنپت رائے کی حکومت سکڑ کر شہر کے گرد و نواح کے علاقعوں تک محدود ھو گئی جبکہ ریاست پونچھ کا وسیع علاقہ مقامی سرداروں نے آپس میں تقسیم کر دیا اور اسی طرح یہ اپنے گاوں کے سردار بن گے اور ایک دوسرے پہ چڑھ دوڑے اور ایک دوسرے کو فتح کرنے لگے اور عام عوام قتل ھونے لگی غریب لوگوں کے گھر بار تباہ و برباد کر دیے جاتے ان ہنگاموں میں وہ خون خرابہ ھوتا کہ تاریخ میں اس تباہی کی مثال نہیں ملتی


پونچھ کے علاقے میں پھیلی ہوئی بغاوت اور افراتفری کی اطلاع جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ملی اور انہیں بتایا گیا کہ حالات قابو سے باہر ہو رے ہیں تو مہاراجہ نے پونچھ بھمبر راجوری اور چھبال کے علاقے اپنے وفادار وزیر اعظم دھیان سنگھ کو جاگیر کے طور پہ دے دئیے تاکہ ان علاقوں پر اقتدار کی گرفت مضبوط ہو سکے اور یہاں کے سرکش عوام کو لگام دی جا سکے لیکن دھیان سنگھ لاھور دربار میں ہی حکومتی کام میں مصروف رہا اور یہاں آنے کی زحمت نہ کی اور اپنی  جگہ اپنے بھائی گلاب سنگھ کو یہ جاگیر سپرد کر دی اور اپنی طرف سے اس علاقے پر مشیر دیوان کشن گوپال کو مقرر کر دیا  یہ دیوان گوپال پہلے جموں جاگیر پہ کام کرتا رہا 

دیوان نے پونچھ پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور جلد اس نتیجہ پہ پہنچ گیا کہ اگر اقتدار کی گرفت مضبوط کرنی ھے تو دیہات تک اقتدار کو وسعت دینی ھے  دیوان نے پونچھ کے لوگوں سے قریبی تعلقات بنانے پڑیں گے اسی پالیسی کے تحت دیوان نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور وہ لوگوں میں دن بدن مقبول ھونے لگا اور لوگ خوش بھی ہوئے 

انہی دنوں پونچھ شہر کے آس پاس شمس ملدیال کی عمل داری تھی شمس خان دیہاتوں میں بہت مقبول تھا اس لیے دیوان کشن گوپال نے مصلحت کے طور پر راجہ دھیان سنگھ کو لکھا کہ شمس خان کو اپنی ملازمت میں رکھ لیا جائے ۔اس طرح دیوان گوپال کی سفارش پر راجہ دھیان سنگھ نے شمس خان کو اپنا ساتھ Gorchar trooper بنادیا ۔اس حثیت سے اس نے راجہ دھیان سنگھ پر اپنی قابلیت جواں مردی اور بہادری کا ایسا اثر ڈالا کہ راجہ کا دل جیت لیا اب دھیان سنگھ نے احترام کرتے ہوئے شمس خان کو اپنا ایڈمنسٹریٹر بنا کر پونچھ بھیج دیا ۔

شمس خان کو ساتھ ملانے کا مطلب پونچھ سے بغاوت کو ختم کرنے کے برابر تھا اسی مصلحت کے پیش نظر راجہ دھیان سنگھ نے شمس ملدیال کو اپنی ملازمت میں لیا اور اسے پونچھ کے مشیر کا نائب مقرر کر دیا شمس ملدیال لاھور سے واپس پونچھ چلا آیا اور دیوان گوپال کے ساتھ ملکر نظم ونسق چلانے لگا لیکن چند ہی دن بعد دیوان گوپال فوت ھو گیا اور اس کی جگہ جموں کے راجہ گلاب سنگھ نے آزمودہ کار دیوان دلباغ سنگھ کو رائے کا حاکم مقرر کر دیا۔چونکہ پونچھ کے حالات خالصہ حکومت کے لیے سازگار نہ تھے اور دلباغ رائے نیا نیا مقرر ھوا تھا 

علاقے کا کنٹرول اس کے بس کی بات نہیں تھی پونچھ شہر کے آس پاس ہر طرف شمس خان ملدیال کی حکمرانی ھے اسی کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا چونکہ شمس خان دھیان سنگھ سے نائب ھونے کا پروانہ بھی لیکر آ گیا تھا اس لیے دلباغ رائے نے شمس خان کا استقبال کیا اور اس کی مدد سے پونچھ پہ حکومت کرنے لگا ادھر شمس خان سرکاری طور پہ پونچھ میں وارد ھوا تو یہاں کے عوام نے کئی دنوں تک خوشیاں مناہیں لوگوں نے 

شہر سے کچھ فاصلے پر شمس خان نے ایک مسجد بھی بنوائئ تھی اور ایک مکتب بھی کھولا گیا ۔آج بھی اس مسجد کو شمس مسجد کہا جاتا ھے جب پونچھ پر بھی اس کا سرکاری طور پر اقتدار قائم ھو گیا تو عوام میں ان کی مقبولیت اور بڑھ گئی اور راجہ دھیان سنگھ نے دلباغ رائے کو لکھا کہ وہ علاقے کے انتظامی معاملات میں شمس ملدیال کو شریک کرنے اور اس سے مشورہ کے بعد ہی فیصلہ کیا کرے ۔۔اس حکم سے شمس خان کے ہاتھ اور مضبوط ھو گے اور لوگ اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگے اور لوگ اپنے کاموں کو نپٹانے کے لیے دلباغ رائے کے بجائے شمس خان کے پاس ہی آنے لگے شمس خان اپنے لوگوں کے کام بہت سمجھداری سے سلجھتا شمس خان کے اس رویہ کے باعث خالصہ حکومت پہ عوام کا اعتماد بحال ھو گیا اور علاقے میں کچھ برسوں کے لئے امن و امان بحال ھو گیا دھیان سنگھ شمس خان کی کمال حکمت پہ بہت خوش تھا اور وہ شمس خان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا 

راجہ دھیان سنگھ کی نظر میں شمس خان ایک نہایت شریف اور دور اندیش اور وفادار آدمی تھا 

جاری ہے

0 Comments:

Search This Blog

My Blog List

Comments

Khan

https://www.facebook.com/100058831592393/posts/222588073045578/?app=fbl

Follow