شمس خان ملدیال شہید اور دلباغ رائے میں اقتدار کی رسہ کشی
قسط نمبر 2
خوش دیو مینی ۔ کتاب پہاڑی قباہل میں لکھتے ہیں شمس خان ملدیال کی عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت اور انتظامیہ پر مضبوط ہوتی ہوئی اس کی گرفت دیوان دلباغ رائے کو دن بدن کمزور کر رہی کر رہی تھی ۔ دلباغ رائے شمس خان سے حسد کرنے لگا اور اس کے خلاف سازشیں رچنے لگا ۔کیوں کہ پونچھ کے عوام اسے منہ نہ لگاتے تھے اوپر سے راجہ دھیان سنگھ اس کی ایک نہ سنتا تھا ۔جو کسر باقی تھی وہ پونچھ دربار کے مفاد پرست اور چغل خور اہلکاروں نے پوری کر دی اور دنوں کے درمیان نفرت پیدا ھو گئی
ان حالات میں دلباغ نے راجہ دھیان سنگھ اور گلاب سنگھ دونوں کو لکھا کہ شمس خان بغاوت پر آمادہ ھے اور در پردہ شورش پر تلا ھوا ھے گلاب سنگھ جو شمس کے پہلے ہی بہت خلاف تھا ۔۔پہلے ایک دفعہ شمس خان جموں دربار میں گلاب سنگھ کے پاس بھی ایک ملاقات کر چکا تھا اس وقت جب شمس خان گلاب سنگھ کے پاس حاضر ھوا تھا تو گھوڑے سے اترا نہیں بلکہ جہاں گلاب سنگھ برہجماہ تھا وہاں سیدھا گھوڑے سمت پہنچ گیا تھا
جب گلاب سنگھ نے پوچھا جوان کہاں سے آئے ھو اپنا تعارف کرواو
شمس خان انکھوں میں آنکیھں ڈالا کر جواب دیا ۔۔میرا نام سرداد شمس ملدیال ھے پونچھ دیگوار کا رہنے والا ھوں ملدیال مغل قبیلے سے تعلق ھے اور میں حاضر اس لیے ھوا ھوں کہ پونچھ کے معماملات میرے حوالے کیے جاہیں ۔گلاب کے بہت سارے جواب دے چکا جب تو گلاب سنگھ کہتہ ھے اگر تجھے اقتدار میں حصہ ملے تو کہیں تو بغاوت نہ کر جائے
گلاب سنگھ شمس خان کی صلاحیت سے واقف بھی تھا اسے خطرہ تھا کہ یہ ایک دن بغاوت کرے گا ۔گلاب سنگھ نے شمس خان کو جموں طلب کر لیا اور اپنے تصرف والے علاقعوں کے مالیے کے طور پر چھتیس 36 ہزار طلب کر لیے ۔شمس خان کے پاس اتنی رقم کہاں تھی اس نے جموں دربار میں گلاب سنگھ کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو بغیر اجازت جموں سے ہونچھ آ گیا ۔
اسی دوران دلباغ رائے اور گلاب سنگھ نے مل کر شمس کے خلاف مراسلے روانہ کرنے شروع کر دیے پنجاب دربار میں گلاب سنگھ کی لابی پہلے سے سرگرم تھی گلاب سنگھ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کو لکھا کہ جلد از جلد شمس خان کو ختم کر دیا جائے ورنہ بغاوت کر دئے گا رنجیت سنگھ بغیر حقیقت جانے شمس خان کی سرکوبی کے لیے آمادہ ھو گیا جب شمس خان کو ان ساری سازشوں کا علم ہوا تو شمس خان نے بھی ایک مراسلہ لاہور دربار بھیجا اور اس میں وفاداری کا وعدہ کیا
مگر شمس خان کے خط کا کوئی اثر نہ ھو سکا مہاراجہ کو وہاں لابی بہت سرگرم تھی گلاب سنگھ کی لھذا فیصلہ ھوا شمس خان ملدیال خلاف مہم کا ۔دوسری طرف شمس خان اور اس کے بھتیجے راج ولی خان نے پونچھ میں اپنی فوج ترتیب دینی شروع کر دی اور پونچھ کے عوام نے شمس ملدیال کا بھرپور ساتھ دیا اور جس نے خالصہ فوجوں کے ساتھ اس زمانے میں ٹکر لینے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔۔
جاری ھے۔۔۔۔۔۔۔۔
Read More

سردار شمس خان ملدیال شہید
تحریرنویس: شاہد عالم خانتحقیق وترتیب: سردار عبدالھادی منگول 1819
میں پونچھ کے آئینی حکمران وزیر روح اللہ کے فوت ہو جانے کے بعد پونچھ کی تلوار ٹوٹ چکی تھی ۔گو کہ پونچھ پر 1823ءتک روح اللہ کے پوتے میرباز کی حکومت رہی لیکن اصل میں پونچھی حکومت کے دم خم اور اس کی اصل طاقت روح اللہ کے ساتھ ختم ھو چکی تھی اور علاقے بھر میں اندرونی افراتفری اور بد نظمی کے باعث پونچھ میں انتشار پیدا ھو چکا تھا اور مرکزی حکومت کا خاتمہ ھو گیا تھا ۔۔1823 میں میر باز کی حکومت ختم کرکہ اسے گرفتار کر لیا گیا تھا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاھور دربار کی طرف سے مشیر دھنپت رائے کو اس علاقے کا گورنر مقرر کیا حالانکہ یہاں میر باز کی حکومت کے خاتمے کے بعد دھنپت رائے اور حکمان سنگھ چمنی چلاتے رھے
لیکن وہ اس علاقے پر اپنا تسلط قاہم نہ رکھ سکے یہاں کے لوگ ہمیشہ بیرونی تسلط کے خلاف رہے اسی طرح کشمیر میں جب مسلمان سلاطین کی حکومت تھی تو پونچھ کے سرکش عوام نے ہمیشہ علم بغاوت بلند کیے رکھا اور ہمیشہ اپنی الگ پہچان اور علاقے کی الگ حثیت کے جدوجہد کرتے رئے
جب یہ علاقہ 1823 میں رنجیت سنگھ کی حکومت پنجاب کا حصہ بنا اور یہاں کے سرکش عوام نے سر اٹھانا شروع کر دیا نتیجہ یہ ھوا کہ دھنپت رائے کی حکومت سکڑ کر شہر کے گرد و نواح کے علاقعوں تک محدود ھو گئی جبکہ ریاست پونچھ کا وسیع علاقہ مقامی سرداروں نے آپس میں تقسیم کر دیا اور اسی طرح یہ اپنے گاوں کے سردار بن گے اور ایک دوسرے پہ چڑھ دوڑے اور ایک دوسرے کو فتح کرنے لگے اور عام عوام قتل ھونے لگی غریب لوگوں کے گھر بار تباہ و برباد کر دیے جاتے ان ہنگاموں میں وہ خون خرابہ ھوتا کہ تاریخ میں اس تباہی کی مثال نہیں ملتی
پونچھ کے علاقے میں پھیلی ہوئی بغاوت اور افراتفری کی اطلاع جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کو ملی اور انہیں بتایا گیا کہ حالات قابو سے باہر ہو رے ہیں تو مہاراجہ نے پونچھ بھمبر راجوری اور چھبال کے علاقے اپنے وفادار وزیر اعظم دھیان سنگھ کو جاگیر کے طور پہ دے دئیے تاکہ ان علاقوں پر اقتدار کی گرفت مضبوط ہو سکے اور یہاں کے سرکش عوام کو لگام دی جا سکے لیکن دھیان سنگھ لاھور دربار میں ہی حکومتی کام میں مصروف رہا اور یہاں آنے کی زحمت نہ کی اور اپنی جگہ اپنے بھائی گلاب سنگھ کو یہ جاگیر سپرد کر دی اور اپنی طرف سے اس علاقے پر مشیر دیوان کشن گوپال کو مقرر کر دیا یہ دیوان گوپال پہلے جموں جاگیر پہ کام کرتا رہا
دیوان نے پونچھ پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور جلد اس نتیجہ پہ پہنچ گیا کہ اگر اقتدار کی گرفت مضبوط کرنی ھے تو دیہات تک اقتدار کو وسعت دینی ھے دیوان نے پونچھ کے لوگوں سے قریبی تعلقات بنانے پڑیں گے اسی پالیسی کے تحت دیوان نے یہاں کے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور وہ لوگوں میں دن بدن مقبول ھونے لگا اور لوگ خوش بھی ہوئے
انہی دنوں پونچھ شہر کے آس پاس شمس ملدیال کی عمل داری تھی شمس خان دیہاتوں میں بہت مقبول تھا اس لیے دیوان کشن گوپال نے مصلحت کے طور پر راجہ دھیان سنگھ کو لکھا کہ شمس خان کو اپنی ملازمت میں رکھ لیا جائے ۔اس طرح دیوان گوپال کی سفارش پر راجہ دھیان سنگھ نے شمس خان کو اپنا ساتھ Gorchar trooper بنادیا ۔اس حثیت سے اس نے راجہ دھیان سنگھ پر اپنی قابلیت جواں مردی اور بہادری کا ایسا اثر ڈالا کہ راجہ کا دل جیت لیا اب دھیان سنگھ نے احترام کرتے ہوئے شمس خان کو اپنا ایڈمنسٹریٹر بنا کر پونچھ بھیج دیا ۔
شمس خان کو ساتھ ملانے کا مطلب پونچھ سے بغاوت کو ختم کرنے کے برابر تھا اسی مصلحت کے پیش نظر راجہ دھیان سنگھ نے شمس ملدیال کو اپنی ملازمت میں لیا اور اسے پونچھ کے مشیر کا نائب مقرر کر دیا شمس ملدیال لاھور سے واپس پونچھ چلا آیا اور دیوان گوپال کے ساتھ ملکر نظم ونسق چلانے لگا لیکن چند ہی دن بعد دیوان گوپال فوت ھو گیا اور اس کی جگہ جموں کے راجہ گلاب سنگھ نے آزمودہ کار دیوان دلباغ سنگھ کو رائے کا حاکم مقرر کر دیا۔چونکہ پونچھ کے حالات خالصہ حکومت کے لیے سازگار نہ تھے اور دلباغ رائے نیا نیا مقرر ھوا تھا
علاقے کا کنٹرول اس کے بس کی بات نہیں تھی پونچھ شہر کے آس پاس ہر طرف شمس خان ملدیال کی حکمرانی ھے اسی کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا چونکہ شمس خان دھیان سنگھ سے نائب ھونے کا پروانہ بھی لیکر آ گیا تھا اس لیے دلباغ رائے نے شمس خان کا استقبال کیا اور اس کی مدد سے پونچھ پہ حکومت کرنے لگا ادھر شمس خان سرکاری طور پہ پونچھ میں وارد ھوا تو یہاں کے عوام نے کئی دنوں تک خوشیاں مناہیں لوگوں نے
شہر سے کچھ فاصلے پر شمس خان نے ایک مسجد بھی بنوائئ تھی اور ایک مکتب بھی کھولا گیا ۔آج بھی اس مسجد کو شمس مسجد کہا جاتا ھے جب پونچھ پر بھی اس کا سرکاری طور پر اقتدار قائم ھو گیا تو عوام میں ان کی مقبولیت اور بڑھ گئی اور راجہ دھیان سنگھ نے دلباغ رائے کو لکھا کہ وہ علاقے کے انتظامی معاملات میں شمس ملدیال کو شریک کرنے اور اس سے مشورہ کے بعد ہی فیصلہ کیا کرے ۔۔اس حکم سے شمس خان کے ہاتھ اور مضبوط ھو گے اور لوگ اسی کو اپنا سب کچھ سمجھنے لگے اور لوگ اپنے کاموں کو نپٹانے کے لیے دلباغ رائے کے بجائے شمس خان کے پاس ہی آنے لگے شمس خان اپنے لوگوں کے کام بہت سمجھداری سے سلجھتا شمس خان کے اس رویہ کے باعث خالصہ حکومت پہ عوام کا اعتماد بحال ھو گیا اور علاقے میں کچھ برسوں کے لئے امن و امان بحال ھو گیا دھیان سنگھ شمس خان کی کمال حکمت پہ بہت خوش تھا اور وہ شمس خان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا
راجہ دھیان سنگھ کی نظر میں شمس خان ایک نہایت شریف اور دور اندیش اور وفادار آدمی تھا
جاری ہے

Read More
Last khan of united Mongol Empire was Mönkhe
Last khan of unified Yuan Dynasty was Togoontemur
Last khan of Northern Yuan and last genghisid king of Central mongolians is Ligden
Last genghisid khan of kazakh khanate was Kenesary
Last mongol khan of Mongol state( Dzungar) was Amarsana
Official last king of Dzungar is Dawachi, but Amarsana enthroned himself as "Khan of Dzungar" during fall of Dzungar
Last khan of Mongol State was Bogd Jabzandumba
Bogd khan was ethnic tibet.
About other khanates, chagatay, mogholistan,khoshut,kalmyk,golden horde
It will be long writing.
Read More
🔴 (منگول—مغول—مغل)🔴
مغل اردو،ہندی اور بنگالی زبان میں منگول کو کہا جاتا ہے۔(فارسی عربی :میں
مغول اردو اور ہندی میں مُغل اور باقی زبانوں میں منگول Mongol کہا جاتا ہے۔
لفظ “مغل”یہ منگول ہی کی معرب یا بدلی ہوئی شکل ہے۔شجریاتی زبان میں اک مغول یا
مغل خان کی اولادوں کو مغل ، منگول یا مغول کہا گیا ہے۔ عربی زبان میں چونکہ
حرف “گ” نہیں ہےاور یہاں “گ” کا متبادل “ج” یا “غ” استعمال ہوتا ہےلہذا عربوں
نے “منگول” کو “مغول” لکھا ہے۔جیسے قرآن میں لفظ “جوج یا ماجوج” ہے
مگرعربی،اردو،ہندی اور فارسی کے علاوہ دنیا میں “گوگ اورمیگوگ” کہاجاتاہے
انگریزی زبان میں حرف “غ” کا متبادل GH ہے جبکہ اردو اور فارسی میں ہم انگریزی
کے “GH”کو حروف “غ” “گھ” اور “گ” تینوں کے متبادل کے طور پر پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ
ہے کہ ہم لفظ منگول کو کبھی مغول اور کبھی مغل کے تلفظ میں ادا کرتے ہیں۔ کئی
لوگ اس غلط فہمی کا بھی شکار ہیں کہ شاید لفظ مغل کی جمع مغول ہے، حالانکہ ایسا
ہر گز نہیں ہے جس طرح انگریزی زبان میں پانچ واول(Vovel) حروف ہیں بالکل اسی
طرح عربی، فارسی اور اردو میں بھی تین حروف عطف(واول) ہیں یعنی “ا” ”و”اور
”ی”۔عربی قواعد کی رُو سے یہ تینوں حروف ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں اور حذف
بھی ہو جاتے ہیں۔ اسی قاعدے کے تحت لفظ” منگول” پہلے تو “ مغول “ بنا اور پھر
“مُوغل”“و” حذف ہو گیااور صرف” مغل “رہ گیا۔ البتہ عربی اور فارسی قواعد کے
مطابق مغل کی جمع مغولان ہے۔ صرف ادائیگی اور لب و لہجے کا فرق ہے۔ جیسا کہ
مورخین نے مغولان چنگیزی اور مغولان تیموری وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے
ہیں۔
Read More